کیا ملتان آم کی پیداوار سے محروم ہونے جا رہا ہے؟

حق گوئی

انجم پتافی

آم جسے پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے جنوبی پنجاب کی خاص سوغات کے طور پر پہچانا جاتا ہے ،آم کو ویسے تو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے لیکن جنوبی پنجاب میں ملتان مظفرگڑھ رحیم یار خان کبیر والہ ،شجاعباد کے علاقوں میں پیدا ہونے والا آم اپنی مٹھاس خوشبو اور زائقے کی بدولت اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے ،،
جنوبی پنجاب میں مالٹا،دسہری، انور رٹول ،سندھڑی،چونسہ،کالا چونسہ شان خدا سمیت آم کی متعدد قسمیں پیدا ہوتی ہیں ،جو اپنے رنگ زائقے اور خوشبو کے باعث منفرد پہچان رکھتی ہیں ،سفید چونسہ عام طور پر بیرون ملک بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ بیرون ملک درآمد کرنے کے لئے سب سے زیادہ کھیپ چونسہ کی ہی بھجوائی جاتی ہے
رواں سال آم کی پیداوار گزشتہ سال کی نسبت خاصی کم ہے باغبانوں اور ایکسپورٹرز کے مطابق گزشتہ سال کی نسبت اس سال چالیس فیصد سے زائد پیداوار کم ہوئی ہے گزشتہ سال یعنی 2019 میں پنجاب بھر میں آم کی پیداوار 13 لاکھ میٹرک ٹن تھی سال 2018 میں آم کی پیداوار 17 لاکھ میٹرک ٹن جبکہ سال 2017 میں آم کی پیداوار مجموعی طور پر 13 لاکھ ٹن حاصل کی گئی جو اس سال کم ہو کر بمشکل 7 لاکھ میٹرک ٹن تک حاصل ہونے کی توقع ہے
،پیداوار کم ہونے کی بڑی وجوہات میں تیلے کا حملہ ،ٹڈی دل اور تیز آندھیاں ہیں جبکہ فروری اور مارچ کے مہینے میں ہونے والی بارشوں اورژالہ باری نے بھی آم کی فصل کو شدید نقصان پہنچایا ہے ،،آم کے باغبانوں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ کورونا کی وجہ سے وہ خاصی پریشانی کا شکار ہیں ،آم کی ایک بڑی مقدار کو وہ ہر سال دبئی بھجواتے ہیں اور بزریعہ سڑک ایران بھجواتے ہیں لیکن اس سال کورونا کی وجہ سے ناموافق سفری حالات رکاوٹ بنتے نظر آتے ہیں ،،، جس سے انہیں شدید مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ،،انکا مزید کہنا تھا کہ امسال پہلے موسم ٹھنڈا رہنے اور پھر باغات پر تیلہ کے حملہ کی وجہ سے آم کی فصل خاصی متاثر ہوئی ہے ،موسم بروقت گرم نہ ہونے کی وجہ سے تیلے نے بھی آم کے باغات کو شدید نقصان پہنچایا ہے ،،رہی سہی کسر تیز آندھیوں نے پوری کر دی ہے جسکی وجہ سے آم کی فصل کافی کم مقدار میں ہوئی ہے آم کی پیداوار کم ہونے اور ایکسپورٹ نہ ہونے کے اندیشے کے پیش نظر آم کے باغات کے بیوپاریوں نے بھی باغبانوں سے اپنے معاہدے ختم کر دئیے ہیں،جن بیوپاریوں نے باغبانوں سے گزشتہ سال پیشگی معاہدے کئے تھے وہ بھی بیعانہ کے طور پر دی گئی رقم سے دست بردار ہوتے ہوئے معاہدہ سے انحراف کر گئے ہیں جس کی وجہ سے آم کے باغبانوں کو کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے
آم کی فصل کے ماہرین،محکمہ زراعت، پلانٹ پروٹیکشن اور ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال پنجاب بھر سے ام کی 13 لاکھ میٹرک ٹن پیداوار حاصل ہوئی تھی ،کاشتکار امسال اس سے زیادہ کی توقع کر رہے تھے مگر نا موافق موسمی حالات بیماری کے حملے اور تیز آندھی کے باعث اس سال آم کی 7 سے 8 لاکھ میٹرک ٹن پیداوار ہی شائد حاصل ہو سکے گی ،،

آم کی ایکسپورٹ کے حوالہ سے معروف باغبان اورجدید باغبانی کے حوالہ سے اقدامات کرنے والے ملتان کے علاقہ ٹاٹے پور کے باغبان جہانزیب دھرالہ کہتے ہیں کہ ایکسپورٹ سے آم کے باغبانوں کو خاصا فائدہ ہوتا ہے جبکہ اس سال کورونا کے پیش نظر عالمی حالات کو سامنے رکھیں تو آم بڑی مقدار میں ایکسپورٹ نہیں کیا جا سکے گا کیونکہ عام طور پر اسے کمرشل فلائٹس کے زریعہ یورپی ممالک کو بھیجا جاتا ہے جو موجودہ حالات میں ممکن نظر نہیں آتا ،،اور یورپ سے ملتان کی کوئی ڈائریکٹ فلائٹ بھی میسر نہیں ہوتی ویسے بھی کارگو فلائٹس کے زریعہ آم کو باہر بھیجنے میں انہیں پہلے اسے لاہور بھجوانا پڑتا ہے جس سے انکے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں اور آم ایک نازک مزج پھل ہونے کے باعث سختی برداشت نہیں کرتا ،،لاہور اور پھر وہاں سے یورپی ممالک تک بھجوانے کے دوران آم کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے جس سے یورپ ممالک میں اسکی قیمت نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے ،،اس سے پہلے وہ ملتان سے آم کو بزریعہ ہوائی جہاز لاہور کراچی اور پھر وہاں سے یورپی ممالک تک بھجواتے رہے ہیں ،جہانزیب دھرالہ نے سجاگ کو بتایا کہ سال 2017 میں مجموعی طور پر 1 لاکھ 10 ہزار ٹن آم باہر بھجوایا گیا اسی طرح 2018 میں 70 ہزار جبکہ 2017 میں 1 لاکھ 40 ہزار ٹن کو یورپ کے ممالک میں ایکسپورٹ کیا گیا تھا ،
مینگو ریسرچ کے ماہرین اور سائنسدانوں کے مطابق گزشتہ سال فروٹ فلائی کے حملہ کے باوجود پیداوار مناسب رہی تھی ،اس مرتبہ پیداوار کم ہونے کی سب سے بڑی وجہ موافق موسمی حالات کا نہ ہونا ہے۔انکا کہنا تھا کہ موسمی حالات کے تبدیل ہونے کا اثر باغات اور آم کی پیداوار پر بھی پڑ رہا ہے ،،اگر آنے والے سالوں میں بھی یہی حالات رہے تو آم کی فصل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے
آم کی پیداوار کم ہونے کی ایک بڑی وجہ آم کے باغات کا مسلسل کٹاو بھی ہے ،،شہر کے پھیلاو کے باعث آم کی فصل والے علاقوں پر دھڑا دھڑ رہائشی کالونیاں بننے سے آم کے باغات مسلسل کم ہوتے جا رہے ہیں اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل قریب میں آم کی پیداوار کے حوالہ سے اپنی شناخت رکھنے والا ملتان آم کے باغات سے محروم ہو جائے گا
منڈی میں آم کے بڑے بیوپاریوں کا کہنا ہے اگرچہ پیداوار کم ہوگی لیکن درآمدات نہ کھلیں تو اسکا فائدہ عوام کو ہو سکتا ہے جبکہ اسکا نقصان بیوپاریوں اور باغبانوں کو برداشت کرنا پڑے گا ،،انکا کہنا تھا کہ آم کی پیداوار زیادہ یا کم ہونے سے مڈل مین کو زیادہ فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ اپنے منافع کی شرح کو دونوں صورتوں میں برقرار رکھتا ہے ،
ملتان کی سبزی و فروٹ منڈی کے آڑھتی محمد شمس اور شہاب الدین کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ مارکیٹ میں مقامی آم کی آمد بھی تاخیر سے ہو رہی ہے جسکی بڑی وجہ موسم گرما کا دیر سے آنا ہے ،موسم جون کے آغاز تک معتدل رہا ہے ،آم کی فصل کو مطلوبہ گرمی میسر نہیں ہو سکی جسکی وجہ سے آم نے پکنے اور تیار ہونے میں تاخیر کی ہے ،کورونا کے باعث اگر آم درآمد نہ ہوا تو یقینی طور پر مقامی مارکیٹ میں پہلے کی نسبت اچھی کوالٹی میں مقامی لوگوں کو میسر ہوگا لیکن اگر اسکی پیداوار زیادہ ہوتی تو اسکی قمیت پچھلے سال کی نسبت زیادہ کم ہو سکتی تھی ،،
آم کے باغبان حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تبدیل ہونے والے موسمی حالات کو مدنظر رکھ کر مینگو ریسرچ سنٹرز ایسی ورائٹیاں متعارف کرائیں جو بدلتے موسم کے ساتھ موافق رہ سکیں اور آم کے باغات والے علاقوں میں ہاوسنگ سوسائٹیاں بنانے پر مکمل پابندی عائد کی جائے تاکہ دنیا بھر میں آم کی پیداوار کے حوالہ سے جو پہچان ملتان اور جنوبی پنجاب نے بنائی ہے اسے برقرار رکھا جا سکے

اپنا تبصرہ بھیجیں