حق گوئی انجم پتافی

ملتان میں محکمہ صحت کے حکام کی نااہلی کھل کر سامنے آنے لگی ،نشتر اسپتال پاکستان کا ووہان بننے جا رہا ہے جسکی روک تھام کے لئے کسی بھی قسم کے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ،نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اپنی ایک نئی دنیا بسائی ہوئی ہے ،پے در پے مسلسل ڈاکٹرز نرسز پیرا میڈیکس اور اسپتال کا دیگر عملہ کورونا کا شکار ہو رہا ہے جسکی بنیادی اور اہم وجہ ان کو حفاظتی کٹس کا نہ ملنا ہے ،ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ،پی ایم اے اور دیگر سٹاف مسلسل پریس کانفرنس کر رہا ہے کہ انہیں حفاظتی سامان فراہم نہیں کیا جا رہا ہے جسکی وجہسے کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے ڈاکٹرز نرسز اور دیگر سٹاف شدید خطرے کی زد میں ہے مگر انتظامیہ سب اچھا ہے کہ رپورٹس دئیے جا رہی ہے ،نشتر اسپتال کے 20 سے زائد ڈاکٹرز اس وقت کورونا کا شکار ہونے کے بعد طیب اردوان اسپتال مظفرگڑھ میں زیر علاج ہیں ،گزشتہ دنوں ڈیرہ غازی خان ٹیچنگ اسپتال کے ڈاکٹرز بھی اس موزی وائرس کا شکار ہوئے انہیں اسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ وہ وہاں سے سہولیات کی عدم فراہمی کا کہہ کر واپس چلے گئے ،حکومتی سطح پر اس وقت وزیرا علی پنجاب کو صحیح صورتحال سے شائد آگاہ نہیں کیا جا رہا ہے یا پھر وہ خود علم ہونے کے باوجود ڈاکٹرز اور دیگر عملہ کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لئے سنجیدہ نہیں ہیں دونوں صورتوں میں نقصان پاکستانی عوام کا ہو رہا ہے ،اس موجودہ دور میں حکومت کو اس اہم مسئلہ کیجانب فوری توجہ دینےکے ساتھ ساتھ ان مسائل کے حل کے لئے فوری اور تیز ترین کام کرنا ہو گا تاکہ ان سے نبرد آزما ہوا جا سکے ،یہ وائرس کیسے پھیلا یہ کہانی پرانی ہو چکی ہمیں اب اس سے لڑنے اور بچاو کے لئے حکمت عملی کی ضرورتہے تاکہ ان مسائل کوفوری حل کرتےہوئے ڈاکٹرز نرسز پیرا میڈیکس اور دیگر عملے کے ساتھ ساتھ اسپتال آنے والے دیگر مریضوں کو بھی اس وائرس سے محفوظ رکھا جا سکے ،ورنہ وقت اور وائرس بہت ظالم ہے وقت گزر جائے گا اور وائرس حملہ آور ہونے میں قطعی دیر نہیں کرے گا کہ وہ کسی وائس چانسلر ڈاکٹر ایم ایس یا وزیر مشیر کی اجازت کا طلبگار نہیں ہوتا

اپنا تبصرہ بھیجیں